بنگلورو 8 مارچ (ایس او نیوز) پی یو سی سکینڈ سمیت ہائی اسکولوں اور کالج کے امتحانات کو دیکھتےہوئے کانگریس کی کرناٹک یونٹ نے حکمراں بی جے پی کے ذریعہ مبینہ بدعنوانی کے خلاف اپنی لڑائی کے ایک حصے کے طور پر 9 مارچ کو بلائے گئے دو گھنٹے کے بند کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی کی ریاستی یونٹ کے صدر ڈی کے شیوکمار نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسکول اور کالج کے امتحانات بشمول سکینڈ پی یو سی امتحانات کے پیش نظر طلباء اور والدین کے دباؤ کی وجہ سے، کانگریس نے علامتی کرناٹک بند کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جو کل جمعرات 9 مارچ کو منعقد ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سینئر کانگریس قائدین سے مشاورت کے بعد لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ کرناٹک کانگریس نے بی جے پی حکومت کی مبینہ بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرنے اور وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے 9 مارچ کو صبح 9 بجے سے 11 بجے تک دو گھنٹے کے لیے علامتی بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا، " طلباء اور والدین نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ بند سے انہیں تکلیف ہوگی کیونکہ امتحانات ہیں۔ ڈی کے شیوکمار نے مزید کہا کہ طلبہ کی فلاح و بہبود ہماری ترجیح ہے، اس لیے طلبہ کے والدین کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ہم نے بند کی کال واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بتاتے چلیں کہ لوک ایوکتہ نے بی جے پی ایم ایل اے مدل ویروپکشپا کے بیٹے پرشانت کمار ایم وی کے ذریعہ سرکاری ٹھیکہ دینے کے نام پر مبینہ طور پر رشوت لینے کے دوران چھاپہ مارا تھا اور 8 کروڑ روپے سے بھی زائد کی نقد رقم برآمد کی تھی۔ بی جے پی پر رشوت اور بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کانگریس نے وزیراعلیٰ بومائی کو استعفیٰ دینے کی مانگ کی تھی اور معاملے کو لے کر جمعرات کو صبح نو بجے سے گیارہ بجے تک یعنی دو گھنٹوں کا علامتی بند منانے کا اعلان کیا تھا، بند کے دوران ویسے تو اسکولوں، کالجوں، ٹرانسپورٹ اور صحت کی خدمات کو متاثر نہیں کئے جانے کی بات کہی گئی تھی جبکہ تمام تاجروں اور دکانداروں سے دو گھنٹے تک اپنی دکانیں اور ادارے بند رکھ کر تعاون کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ لیکن بند کی وجہ سے بچوں کے سالانہ امتحانات متاثر ہونے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے یہ بند اب واپس لے لیا ہے۔
For english report:
Karnataka Congress withdraws tomorrow’s state-wide bandh due to PU exams